Published on February 19, 2026

🗓️ Published on February 19, 2026
دل کو چھو لینے والی اسلامی تحریر
کبھی کبھی کسی کا مذاق میں کیا گیا سوال بھی آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور آپ کو سوچنے کا ایک نیا انداز سکھا دیتا ہے۔
اسی طرح یہ سوال بھی مجھے سوچنے پر مجبور کر گیا کہ کیا واقعی ہی رات کی تنہائی اور اندھیرا ڈر اور خوف کا باعث ہونا چاہیے؟ اور سوچنے کے بعد اس سوال کا جواب "نہیں" تھا۔
کیونکہ اصل ڈر تو یہ ہونا چاہیے کہ باہر کی روشنیوں میں آپ اندر کو تاریک کر دیں، یعنی دنیا کی چمچماتی روشنیاں آپ کی آنکھوں کو اتنا چندھیا دیں کہ آپ اپنے باطن میں موجود گمراہی کی سیاہی اور اندھیرے کو نہ دیکھ پائیں۔
کیونکہ جن دلوں میں ایمان ہو، ان کے لیے دن کا اجالا ہو یا رات کا اندھیرا، یہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں نہ کہ کسی ڈر یا خوف کا باعث۔
اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اس بات کو واضح کیا ہے:
2. سورۃ النحل (16:12)
"اور اس نے تمہارے لیے رات اور دن، سورج اور چاند کو مسخر کر دیا، اور ستارے بھی اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یقیناً ان چیزوں میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"
3. سورۃ آلِ عمران (3:190)
"بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"
میرے خیال میں رات کا اندھیرا ایمان والوں کے دلوں کو مزید پر یقین بناتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ بڑھا دیتا ہے کہ جو رب روشنی کو اندھیرے میں بدل دیتا ہے، وہی میرا پیارا رب اسی تاریکی کو پھر سے اجالے میں بدلنے پر بھی قادر ہے۔
اس کی ذات کا یہ اصول صرف اندھیرے اور روشنی کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر پہلو کے لیے ہے، کہ جو رب آپ کو آزمائش اور تکلیف سے گزارتا ہے، وہی رب آپ کی زندگی کو خوشگوار اور پرسکون بنانے پر بھی قادر ہے۔
بس اس پاک ذات پر یقین ہونا چاہیے جیسے موسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، یونس علیہ السلام نے کیا۔ 🥀
شکر اللّٰہ کا جس نے اتنا خوبصورت کلام نازل کیا ہمارے لیے جو زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی اور ہدایت کا سبب ہے اگر ہم ہدایت کے طالب ہوں۔ کیونکہ اگر کوئی ہدایت کا طالب نہ ہو تو پر چاہے وہ ابو طالب کی کیوں نہ ہو، اللہ اس کو ہدایت نہیں دیتا۔
الحمدللہ رب العالمین ✨ 🖤